Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
251 - 975
باب النعال

باب جوتے کا بیان ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ نعال نون کے زیر سے ہر وہ چیز جو پیر کو مٹی سے بچائے۔ اصطلاح میں ہر قسم کی جوتی کو نعال کہتے ہیں۔جوتی انسان کا زیور ہے اس لیے  یہ لباس میں شامل ہے،جوتی سنت انبیاءہے اورحکم اسلامی ہے۔جب حضرت آدم کو لباسِ دنیا عطا ہوا تو اس کے ہمرا کھجور کے پتوں کا نعلین پاک بھی تھا۔بڑی کشتی یعنی بحری جہاز اور چمڑے کا جوتا حضرت نوح علیہ السلام کی ایجاد ہے۔
حدیث نمبر 251
روایت ہے حضرت ابن عمر سے ۱؎ فرمایا انہوں نے کہ دیکھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنے ہوئے وہ جوتے جس میں بال نہ تھے ۲؎ (بخاری)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،آپ کا نام عبداللہ ہے،فقہاءصحابہ میں سے ہیں،عبادلہ ثلاثہ میں سے ایک ہیں۔

۲؎ یعنی کھال اچھی طرح صاف کرکے سب بال اتار دیئے ہوں جس طرح ہمارے ملک میں رواج ہے اس طرح بہت خوبصورت جوتابنتا ہے،ایسا جوتا بھی زینت انسانی میں شامل ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ مرد کو زینت کرنی جائز ہے جب کہ اس میں شرعی ممانعت نہ ہو نہ اس میں کفر سے مشابہت ہو نہ عورتوں سے۔
Flag Counter