۱؎ چاندی کی انگوٹھی بنوائی یا سونے کی اس کی تحقیق ان شاء اللہ آگے بھی آوے گی۔
۲؎ یعنی آج یہ واقعہ ہوا کہ اس انگوٹھی نے مجھے اپنی طرف مائل اور متوجہ کرلیا جس کی وجہ سے تمہاری اور تمہارے حالات کی طرف توجہ پوری نہ رہی،یہ منذ پوری مدت کے معنی میں ہے۔
۳؎ یہ اس توجہ کا بیان ہے یعنی میں کبھی تو ا س انگوٹھی کو دیکھتا ہوں اور کبھی تم کو،حالانکہ دل یہ چاہتا ہے کہ میں ہر وقت تم کو ہی دیکھا کروں تمہاری ہی اصلاح کیا کروں۔معلوم ہوا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنی امت بڑی پیاری ہے اور اس کی اصلاح ہر وقت مدِنظر ہے،حضور چاہتے ہیں کہ ہر وقت امت پر نظرکرم رہے، یہ ہے نظر کریمانہ۔
۴؎ اس میں اختلاف ہے کہ یہ انگوٹھی چاندی کی تھی یا سونے کی۔ابوداؤد نے بروایت حضرت انس بیان فرمایا کہ یہ انگوٹھی چاندی کی تھی۔اس کے علیٰحدہ کردینے کے معنی یہ ہیں کہ اسے مہرلگانے کے لیے رکھا تو اپنے پاس ہی مگر اسے پہنا نہیں اور پہننے کی نفی بھی ہمیشگی کی ہے یعنی ہمیشہ نہ پہنا کبھی کبھی پہنا مگر اپنے قبضہ میں رکھا ہمیشہ،باقی محدثین نے فرمایا کہ یہ انگوٹھی سونے کی تھی اور الگ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ نہ اسے پہنا نہ اپنے پاس رکھا بلکہ اسے تڑوادیا،بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ انگوٹھی چاندی کی تھی بغیرنقش کی جو زینت کے لیے پہنی گئی تھی حضور انور نے اسے الگ کردیا پھر بعد میں نقش والی انگوٹھی مہر لگانے کے لیے پہنی ضرورت کی بنا پر نہ کہ زینت کے لیے لہذا یہ حدیث دوسری احادیث کے خلاف نہیں۔ فقہاء فرماتے ہیں کہ مردکو بلاضرورت چاندی کی انگوٹھی بھی پہننا بہتر نہیں اس کی دلیل یہ حدیث بھی ہے۔قاضی،بادشاد،مفتی مہر لگانے کے لیے نقش بنی انگوٹھی پہنیں جس کے نگینہ میں اپنا نام کندہ ہو۔