۱؎ یعنی امیروں کو جو ہمیشہ ریشم اور سونے کے زیور پہن سکیں۔
۲؎ ہمیشہ ریشم و زیور پہننے سے منع فرماتے تھے کہ نفس اچھے زیور پہننے کا عادی نہ ہوجائے بلکہ چاہیے کہ امیر آدمی بھی کبھی موٹا معمولی لباس پہن لیا کریں،یہ زہد کی تعلیم ہے۔(مرقات)
۳؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے کہ یہ چیزیں ہمیشہ نہ پہنو یا یہ ممانعت استحباب کی ہے یعنی ریشم و زیور عورتوں کو نہ پہننا بہتر ہے۔عورت کا اصلی زیور ایمان تقویٰ پاکدامنی عفت ہے،اس سے دائمی عزت ہے۔ امام بغوی نے فرمایا کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی وہ حدیث ہے احل الذھب والحریر للاناث من امتی میں اپنی امت کی عورتوں کے لیے سونا اور ریشم حلال کرتا ہوں۔و اللہ اعلم!