Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
247 - 975
۱؎ ان بہن صاحبہ کا نام اور حالات معلوم نہ ہوسکے مگر وہ صحابیہ ہیں اس لیے یہ معلوم نہ ہونا مضر نہیں تمام صحابہ عادل ہیں۔

۲؎  یعنی بے تکلف سونے کا زیور نہ پہنو کہ حیثیت نہ ہو مگر قرض ادھار یا تنگی برداشت کرکے سونا ہی پہنا جائے۔چاندی کے زیور کو حقیر سمجھا جائے یہ نہ کرو لہذا حدیث بالکل واضح ہے،اس احتمال کی تائید اگلا مضمون کررہا ہے۔

۳؎ اجنبی مردوں پر ظاہر کرے کہ اپنا حسن اور زیور دوسروں کو دکھائے یا فخروغرور کے لیے دکھلاوہ کرے یا غریب عورتوں کو فخریہ دکھا کر انہیں دکھ پہنچائے۔آخری دو معنی زیادہ مناسب ہیں کیونکہ اجنبی مردوں کو چاندی کا زیور دکھانا بھی حرام ہے۔عورتیں سونے کا زیور اپنی سہیلیوں کو فخریہ دکھایا کرتی ہیں انہیں حقیر و ذلیل کرنے کے لیے وہ یہاں مراد ہے۔

۴؎  اس فخرواظہار پر عذاب پائے گی نہ کہ صرف زیور پہننے پر لہذا حدیث محکم ہے منسوخ نہیں۔