۱؎ یہ حدیث یا تو منسوخ ہے۔اسلام میں اولًا سونا پہننا عورتوں کو بھی ممنوع تھا یہ حدیث اس وقت کی ہے بعد میں اجازت دی گئی۔یا اس سے وہ سونا مراد ہے جس کی زکوۃ نہ دی جائے گی اگرچہ زکوۃ چاندی کے زیور پر بھی ہے مگر اکثر چاندی کا زیور نصاب کو نہیں پہنچتا،آدھ سیر سے زیادہ چاندی کون عورت پہن سکتی ہے،سونا تو ساڑھے سات تولہ ہو تب بھی زکوۃ لازم ہو جاتی ہے اس لیے خصوصیت سے سونے کا ذکر فرمایا گیا۔خیال رہے کہ مذہب حنفی میں پہننے کے زیوروں پر زکوۃ فرض ہے،امام شافعی کے ہاں اس پر زکوۃ نہیں اس لیے شوافع حضرات اس حدیث کو کراہت تنزیہی پرمحمول کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔اول تو اس لیے کہ عورتوں کو سونے کا زیور مکروہ تنزیہی بھی نہیں ہے،دوسرے اس لیے کہ مکروہ تنزیہی پر ایسی وعید نہیں ہوتی لہذا اس حدیث کی وہ ہی توجیہیں قوی ہیں جو ہم نے عرض کیں۔