| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت بنانہ سے جو عبدالرحمن ابن حیان انصاری کی لونڈی ۱؎ وہ جناب عائشہ کے پاس تھیں کہ آپ کی خدمت میں ایک بچی لائی گئی جس پر جھانجھن تھے جو آواز کررہے تھے۲؎ آپ بولیں کہ اسے میرے پاس ہرگز نہ لاؤ مگر اس صورت میں کہ اس کے جھانجن توڑ دیئے جائیں۳؎ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اس گھر میں فرشتے نہیں آتے جس میں جھانج ہو۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ بنانہ ب کے پیش سے ہے آپ تابعیہ ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت لیتی ہیں اور آپ سے جھانجن کے متعلق ہی روایات آتی ہیں۔(اکمال) ۲؎ اس طرح کہ چلنے کی حالت میں بجتے تھے جیساکہ مروجہ جھانجن میں دیکھا جاتا ہے۔علیہا سے مراد ہے ان کے پاؤں میں جھانجن تھے کیونکہ یہ زیور پاؤں میں پہنا جاتا ہے۔ ۳؎ یا اس طرح کہ ان کے اندر کے کنکر نکال دیئے جائیں یا اس طرح کہ اس کے گھنگھرو الگ کردیئے جائیں یا اس طرح کہ خود جھانجن ہی توڑ دیئے جائیں غرضیکہ ان میں آواز نہ رہے۔ ۴؎ فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں جو خصوصی طور پرمسلمانوں کے گھروں میں آتے جاتے رہتے ہیں یا وہاں ہی مقیم رہتے ہیں خصوصًا ان گھروں میں جہاں تلاوت قرآن کا ذکر خیر رہتا ہے۔اجراس سے مراد مطلقًا بجنے والا زیور ہے خواہ بچوں کے پاؤں یا جانوروں کے گلے یا پاؤں میں ہو۔اسی بناء پر فقہاء فرماتے ہیں کہ دوسرے باجے حرام ہیں بعض حالات میں جائز ہوجاتے ہیں جیسے شادی نکاح پر اعلان کے لیے نوبت نقارہ اعلانات کے لیے مگر جھانجھ حرام لعینہ ہے کبھی حلال نہیں ہوتی۔