| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن طرفہ سے کہ ان کے دادا عرفجہ ابن سعد کی ۱؎ کلاب کے دن ناک ٹوٹ گئی تو آپ نے چاندی کی ناک بنوالی وہ آپ پر بدبو دینے لگی تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا کہ وہ سونے کی ناک بنالیں۲؎(ترمذی،ابو داؤد،نسائی)
شرح
۱؎ حق یہ ہے کہ عبدالرحمن اور طرفہ دونوں تابعی ہیں مگر عرفجہ صحابی ہیں،کلاب کاف کے پیش سے جبلہ اور شام کے درمیان ایک گھاٹ کا نام ہے اور جبلہ و شام دونوں پہاڑوں کے نام ہیں،یہاں دو دفعہ جہاد ہوئے ہیں،انہیں کلاب اول اور کلاب ثانی کہا جاتا ہے۔ ۲؎ اسی حدیث کی بنا پر فقہاء فرماتے ہیں کہ مرد کو سونے کی ناک لگالینا جائز ہے،یوں ہی ہلتے دانت کو سونے کے تار سے باندھ لینا مباح ہے کہ سونے میں میل سے بدبو پیدا نہیں ہوتی۔ہم پہلے بحوالہ شامی عرض کرچکے ہیں کہ پچیس جگہ مرد کو سونے کا استعمال درست ہے۔