۱؎ یعنی حضرت عبداللہ ابن زبیر کی آزاد کردہ لونڈی ان کی لڑکی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائیں،اس بچی کے پاؤں میں بجنے والے جھانجن تھے۔اجراس جمع جرس کی بمعنی جلاجل یعنی گھنگرو اور اس جیسی آواز دینے والی چیز،اونٹ کے گلے کےگھنگروں اور باز کے پاؤں کے چھلوں کو بھی اجراس یا جلاجل کہتے ہیں۔ہمارے ہندوستان میں بھی پہلے عورتوں میں جھانجن کا رواج تھا۔
۲؎ کیونکہ جھانجن ایک قسم کا باجا ہے اور جہاں باجا ہو وہاں فرشتہ رحمت نہیں ہوتا شیطان ہوتا ہے۔شیطان سے مراد وہ شیطان ہے جو کھیل تماشوں پر مقرر ہے،قرین شیطان تو ہر انسان کے ساتھ رہتا ہے۔انگوٹھی کے باب میں یہ حدیث لانا نہایت ہی موزوں ہے کہ انگوٹھی ایک قسم کا زیور ہی ہے۔