Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
242 - 975
حدیث نمبر 242
روایت ہے حضرت ابن زبیر سے کہ انکی ایک آزاد شدہ لونڈی زبیر کی بیٹی کو عمربن خطاب کے پاس لے گئی حالانکہ ان کے پاؤں میں جھانجن تھے ۱؎  تو انہیں حضرت عمر نے توڑ دیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ ہر جھانجھ کے ساتھ شیطان ہے ۲؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی حضرت عبداللہ ابن زبیر کی آزاد کردہ لونڈی ان کی لڑکی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائیں،اس بچی کے پاؤں میں بجنے والے جھانجن تھے۔اجراس جمع جرس کی بمعنی جلاجل یعنی گھنگرو اور اس جیسی آواز دینے والی چیز،اونٹ کے گلے کےگھنگروں اور باز کے پاؤں کے چھلوں کو بھی اجراس یا جلاجل کہتے ہیں۔ہمارے ہندوستان میں بھی پہلے عورتوں میں جھانجن کا رواج تھا۔

۲؎  کیونکہ جھانجن ایک قسم کا باجا ہے اور جہاں باجا ہو وہاں فرشتہ رحمت نہیں ہوتا شیطان ہوتا ہے۔شیطان سے مراد وہ شیطان ہے جو کھیل تماشوں پر مقرر ہے،قرین شیطان تو ہر انسان کے ساتھ رہتا ہے۔انگوٹھی کے باب میں یہ حدیث لانا نہایت ہی موزوں ہے کہ انگوٹھی ایک قسم کا زیور ہی ہے۔
Flag Counter