| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے ۱؎ زردی یعنی خلوق۲؎ سفید بالوں کی تبدیلی۳؎ اور تہبند گھسیٹنا۴؎ اور سونے کی انگوٹھی پہننا اور غیرمحل پر زینت ظاہرکرنا ۵؎ اور پانسے مارنا ۶؎ اور دم کرنا سوا معوذات کے۷؎ اورتعویذ باندھنا ۸؎ اور پانی غیرمحل میں ڈالنا ۹؎ اور بچہ کو بگاڑنا اسے حرام نہ فرمایا ۱۰؎(ابوداؤد ،نسائی)
شرح
۱؎ خلال بکسر خ جمع ہے خلۃ کی بمعنی خصلت و عادت،خصلت کی جمع ہے خصال اور خلت کی جمع ہے خلال۔ ۲؎ خلوق ایک خوشبو خاص کا نام ہے جس میں زعفران پڑتا ہے یہ پیلا رنگ دیتی ہے اس لیے اس کا استعمال مردوں کے لیے ممنو ع ہے عورتوں کے لیے جائز،بعض احادیث میں خلوق کی اجازت ہے مگر وہ سب احادیث منسوخ ہیں۔ ۳؎ یا اس طرح کہ سفید بال اکھیڑ دیئے جائیں یا اس طرح کہ ان میں سیاہ خضاب کیا جائے یہ دونوں کام ممنوع ہیں مرد کو بھی عورت کو بھی۔ ۴؎ یعنی تہبند اتنا نیچا رکھنا کہ زمین پر گھسٹے،یہ عمل مردوعورت سب کے لیے ممنوع ہے۔مرد کا تہبند ٹخنہ سے اونچا رہے عورت کا ٹخنہ سے نیچے۔ ۵؎ یعنی عورت کا اپنی زینت نامحرم مردوں پر ظاہر کرنا حرام ہے۔یہ فرمان بہت ہی جامع ہے اس سے پردہ کے متعلق بہت احکام مستنبط ہوسکتے ہیں۔ ۶؎ کعاب جمع ہے کعب کی،کعب نردشیر کھیل کے پانسوں کو کہتے ہیں،یہ کھیل کھیلتے وقت پانسے پھینکے جاتے ہیں۔حق یہ ہے کہ نردشیر کھیل مطلقًا ممنوع ہے خواہ اس میں جوا ہو یا نہ ہو،اگر اس پر مالی ہار جیت ہو تب تو بہت ہی ممنوع ہے کہ کھیل ہے اور جوا بھی ورنہ کھیل ہونے کی وجہ سے ممنوع۔غیرمعتبر کھیل فعل عبث ہونے کی وجہ سے ممنوع ہیں۔ ۷؎ معوذات سے مراد سورۂ فلق اور سورۂ ناس ہیں۔سوا سے مراد وہ منتر ہیں جن میں شرکیہ الفاظ ہوں۔ شرکیہ الفاظ سے جھاڑ پھونک حرام ہے۔آیاتِ قرآنیہ اور ماثورہ دعاؤں سے دم درود جائز بلکہ بہتر ہے اور دعائیں جن میں بتوں وغیرہ کا نام نہ ہو شرکیہ کلمات نہ ہوں ان سے دم بھی جائز ہے باقی سے حرام۔ ۸؎ یہاں تعویذ سے مراد مشرکین کے تعویذ و گنڈے ہیں جن میں کفریہ الفاظ بتوں کے نام وغیرہ ہوں یہ حرام ہے۔آیات قرآنیہ دعا اسلامیہ سےتعویذ باندھنا حضرات صحابہ کرام سے ثابت ہے جیساکہ باب المعوذات میں گزر گیا۔تمائم جمع ہے تمیمہ کی،تمیمہ کے بہت معانی ہیں:جادو،منتر،ٹونہ جانوروں کی ہڈیاں درد آنکھ کے لیے باندھنا اورتعویذ۔(اشعۃ اللمعات) ۹؎ یعنی حرام جگہ منی گرانا،زنا کرنا،لواطت کرنا،جلق سے منی نکالنا،عورت کی دبر میں وطی کرنا یہ سب کام حرام ہیں۔ ۱۰؎ یعنی جب بچہ دودھ پیتا ہو تو عورت سے صحبت کرنا اگر اس میں اندیشہ ہو کہ اس سے دودھ بھاری ہوکر بچہ کے لیے مضر ہوگا تو اس سے بچے،یہ کام حرام نہیں اس سے احتیاط بہتر ہے اس لیے فرمایا کہ اسے حرام نہ کیا۔محرمہ میں ہ کا مرجع یہ آخری عمل ہے۔