۱؎ مجمع میں لوگوں کے سامنے یہ دو چیزیں ہاتھ میں لیں تاکہ لوگ دیکھ لیں اور یہ دونوں چیزیں خوب واضح ہوجائیں۔
۲؎ چونکہ ان دونوں چیزوں کو مستقل طور پر حرام فرمانا تھا اس لیے حرام واحد ارشاد فرمایا حرامان تثنیہ نہ فرمایا ورنہ احتمال یہ ہوتا کہ ریشم و سونا مل کر تو حرام ہے اکیلے اکیلے حرام نہیں اس لیے ارشاد فرمایا حرام۔ان میں سے ہر ایک چیز مستقل حرام کہ ریشم بھی حرام ہے سونا بھی حرام ہے مگر مردوں پر ہیں عورتوں کے لیے یہ دونوں چیزیں حلال ہیں۔بعض نے فرمایا کہ حرام مصدر ہے جو واحد،تثنیہ،جمع سب کے لیے استعمال ہوسکتا ہے یہاں دو کے لیے ہے۔