| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کسریٰ قیصر اور نجاشی کوکچھ لکھنا چاہا ۱؎ تو عرض کیا گیا کہ وہ لوگ مہر کے بغیر کوئی تحریر قبول نہیں کرتے۲؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک انگوٹھی ڈھلوائی حلقہ چاندی کا تھا جس میں محمد رسول اللہ کندہ کیا گیا ۳؎(مسلم)اور بخاری کی روایت میں ہے کہ انگوٹھی کا نقش تین سطریں تھیں محمد ایک سطر،رسول اللہ ایک سطر،اللہ ایک سطر۴؎
شرح
۱؎ دعوت اسلام دینے کے لیے فرمان عالیہ،کسریٰ لقب تھا شاہ فارس کا اور قیصر لقب تھا شاہ روم کا اور نجاشی شاہ حبشہ کا،وہ نجاشی جو پہلے ہی اسلام لاچکا تھا اس کا نام اصحمہ تھا،یہ ۶ھ میں اسلام لائے اور ۹ھ میں ان کی وفات ہوئی،حضور انور نے مدینہ منورہ میں ان کا جنازہ پڑھا ان کے بعد جو نجاشی تخت پر بیٹھا اسے حضور انور نے دعوتِ اسلام دی اس کا نام اس کا اسلام لانا معلوم نہ ہوسکا۔اصحمہ نجاشی کو تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ام حبیبہ کے ساتھ اپنے نکاح کی قبولیت کا فرمان لکھا تھا انہیں دعوتِ اسلام نہ دی گئی تھی۔(مرقات) ۲؎ یعنی ان بادشاہوں کا قانون یہ ہے کہ جس خط پر بھیجنے والے کے نام کی مہر نہ ہو اسے نہ قبول کرتے ہیں نہ سنتے ہیں وہ لوگ دنیاوی وجاہت والوں کے خطوط ہی پڑھتے سنتے ہیں عوام کے نہیں اور ان کے ہاں وجاہت کی علامت مہر ہے۔ ۳؎ ان علامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس انگوٹھی شریف کا صرف حلقہ چاندی کا تھا نگینہ کسی اور چیز کا تھا مگر حضور نے ایسی انگوٹھی بھی پہنی ہے جس کا حلقہ بھی چاندی کا تھا۔ ۴؎ اس انگوٹھی کا نگینہ حبشی پتھر کاتھا جس پر صرف یہ ہی عبارت لکھی تھی اس سے زیادہ عبارت نہ تھی۔جن روایات میں ہے کہ حضور کی انگوٹھی کا نقش پورا کلمہ طیبہ تھا وہ ضعیف ہیں۔