| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عباس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اسے اتارکر پھینک دیا ۱؎ پھر فرمایا کیا تم میں سے کوئی آگ کی چنگاری لیتا ہے اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے۲؎ اس شخص سے کہا گیارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے تشریف لے جانے کے بعد کہ اپنی انگوٹھی لے لو اس سے کوئی اور نفع اٹھالو ۳؎ وہ بولے اللہ کی قسم میں اسے کبھی نہ لوں گا جب کہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پھینک دیا ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہ ہے عملی تبلیغ کہ برائی کو بہ جبرروک دیا،فرماتے ہیں کہ جو کوئی برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے،نہ کرسکے تو زبان سے روکے،یہ بھی نہ ہوسکے تو دل سے براجانے۔ ۲؎ اسے سمجھانے کے لیے یہ فرمایا یعنی مسلمان مرد کے لیے سونا پہننا گویا دوزخ کی چنگاری اپنے ہاتھ میں لینا ہے کیونکہ یہ اس کا سبب ہے۔ ۳؎ یعنی حضور انور نے تم کو اس کے پہننے سے منع فرمایا نہ کہ دوسرے نفع سے تم اسے اٹھالو اسے فروخت کرکے اس کی قیمت اپنے کام میں لاؤ یا گھر میں کسی عورت کو دیدو وہ استعمال کرے۔یہ تھا شریعت کا فتویٰ جو حضرات صحابہ نے اسے دیا اور بالکل درست تھا۔ ۴؎ یہ ہے مفتی عشق کا فتویٰ کہ اب میں اسے ہاتھ نہ لگاؤں گا کوئی فقیر اسے اٹھالے تاکہ یہ صدقہ میرے اس قصور کا کفارہ بن جائے جو میں نے پہلے بے خبری میں کیا کہ سونا پہنا،اس میں مال کی بربادی نہیں بلکہ اپنا کفارہ ادا کرنا ہے۔(از اشعۃ اللمعات)