Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
228 - 975
باب الخاتم

انگوٹھی کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  خاتم ت کے فتحہ سے صفت مشبہ یا آلہ ہے ختم سے بمعنی مہر،چونکہ انگوٹھی کے نگینہ میں اپنا نام ہوتا ہے جس سے مہر لگائی جاتی ہے اس لیے انگوٹھی کو خاتم کہتے ہیں یعنی مہر لگانے کا آلہ یا مہر لگانے والی چیز،تمام ہوجانے کو ختم کہتے ہیں کیونکہ اس وقت مہر لگتی ہے۔خاتم النبیین کے معنی ہیں آخری نبی کہ آپ کی آمد سے نبوت پر مہر لگ گئی اب کوئی نبی نہیں آسکتا حضرت مسیح پہلے کے نبی ہیں۔
حدیث نمبر 228
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی ۱؎  اور ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ میں پہنی ۲؎  پھر اسے علیٰحدہ کردیا ۳؎  پھر چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس میں نقش کیا محمد رسول اللہ۴؎ اور فرمایا کہ کوئی اس انگوٹھی کے نقش پرنقش نہ کرائے ۵؎  اور وہ پہنتے تو اس کا نگینہ اپنی ہتھیلی سے متصل رکھتے ۶؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا جب کہ سونا پہننا مرد کو حرام نہ تھا حرام ہوجانے پر یہ عمل ممنوع ہوگیا۔خیال رہے کہ عورتوں کو چاندی سونے کی انگوٹھی جائز ہے،مردوں کو ساڑھے چار ماشہ  سے کم چاندی کی انگوٹھی جائز ہے جس میں نگینہ صرف ایک ہو ۔تانبہ پیتل ،لوہا   و غیرہ کی انگوٹھی  چھلا مردوعورت دونوں کو حرام ہے۔اس کی پوری بحث کتب فقہ میں ملاحظہ کرو۔

۲؎  یہ حکم منسوخ ہے حضور کا آخری عمل یہ ہے کہ حضور نے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ہے اب یہ ہی سنت ہے اگرچہ سیدھے ہاتھ میں پہننا بھی جائز ہے۔

۳؎  کیونکہ سونا پہننا مردوں کے لیے اب حرام ہوگیا۔

۴؎  اس طرح کہ محمد ایک سطر،رسول دوسری سطر،اللہ تیسری سطر سب سے اوپر۔اس طرح محمد رسول اللہ،یہ انگوٹھی حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانہ شریف تک خلفاء کی انگلیوں میں رہی،حضرت عثمان کے ہاتھ سے بیر اریس میں گرگئی جسے بیر خاتم بھی کہتے ہیں،مسجد قبا کے سامنے ہے۔

۵؎  یعنی آپ لوگ ایسی انگوٹھی بنواکر پہن سکتے ہو مگر نگینہ میں یہ نقش نہیں کھود سکتے کیونکہ  بادشاہوں کے فرمان نامے اور احکام نبوی اس مہر سے مزین کرکے بھیجے جاتے ہیں۔اگر دوسروں کی انگوٹھی پر بھی  یہ نقش  ہو تو بڑے فساد پھیلیں گے۔مفتی صاحبان آج بھی اپنی مہر والی انگوٹھی بڑی احتیاط سے رکھتے ہیں کہ اورکوئی شخص ان کے نام کی مہر سے غلط فتویٰ یا فیصلہ صادر نہ کردے،حکومت کی مہریں بڑی محفوظ رکھی جاتی ہیں ان سب کی اصل یہ ہی حدیث ہے۔یہ ممانعت اس زمانہ میں تھی اب اگر کوئی یہ نقش اپنی انگوٹھی میں کندہ کرے اور تبرک کے لیے اپنے پاس رکھے تو بالکل جائز ہے کہ وجہ ممانعت اب باقی نہیں۔

۶؎ اس عبارت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم ہمیشہ انگوٹھی نہ پہنتے تھے جب پہنتے تو نگینہ ہتھیلی سے متصل رکھتے۔دوسرے یہ کہ پہنتے تو ہمیشہ تھے مگر بعض اوقات استنجاء وغیرہ کے وقت اتار دیتے تھے پھر جب پہنتے تو اس طرح پہنتے۔خیال رہے کہ اس طرح پہننے سے معلوم ہوا کہ حضور زینت کے لیے نہیں بلکہ ضرورت کے لیے پہنتے ورنہ زینت کی چیز تو نگینہ ہے وہ ہی چھپایا جاتا تھا۔اس وجہ سے علماء فرماتے ہیں کہ سوا بادشاہوں،قاضیوں،مفتیوں کے اور لوگ انگوٹھی نہ پہنیں تو اچھا ہے کہ انگوٹھی کی ضرورت ان ہی لوگوں کورہتی ہے دوسروں کوضرورت نہیں۔
Flag Counter