۱؎ یعنی اعلٰی سے اعلٰی مباح کھانا کھا ؤ اور بڑھیا سے بڑھیامباح لباس پہنو،اللہ نے اعلیٰ لباس اور اللہ نے کھانے تمہارے ہی لیے بنائے ہیں،حلال کھانے چھوڑنے کا نام تقویٰ نہیں حرام خصلتیں چھوڑنے کا نام تقویٰ ہے۔بعض لوگ گوشت نہیں کھاتے مگر بھنگ چرس پینے میں نماز کے قریب نہیں آتے اور اپنے کو پہنچا ہوا کہتے ہیں،واقعی وہ شیطان تک پہنچے ہیں۔
۲؎ کھانے پینے کی مقدار میں حد سے بڑھ جانا اسراف و فضول خرچی ہے۔کیفیت میں حد سے بڑھ جانا مخیلہ یا تکبر ہے اسی لیے علماء فرماتے ہیں لاخیر فی اسرف اور لا اسرف فی الخیر یعنی اسراف میں بھلائی نہیں اور بھلائی میں اسراف نہیں۔بعض حضرات فرماتے ہیں کہ دل و نفس کی ہر خواہش پوری کرنا اسراف ہے کہ جو دل چاہے وہ ہی کھائے پئے اور فخر کی نیت سے اچھے کھانا مخیلہ ہے۔