۱؎ آپ کا نام عمران ابن تمیم ہے،عطاروی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی حیات شریف میں ایمان لائے مگر دیدار نہ کرسکے اس لیے تابعی ہیں۔حضرت عمرو علی وغیرہم بہت صحابہ سے ملاقات کی،بہت عمر رسیدہ ہوئے متبحر عالم تھے، ۱۰۷ھ ایک سو سات میں وفات پائی۔
۲؎ مطرف بروزن مکرم بنا ہے طرف سے بمعنی کنارہ۔مطرف وہ چادرکہلاتی ہے جس کے حاشیوں پر نقش و نگار بیل بوٹے ہوں،نیز وہ چادر بھی مطرف ہے جو ریشم و سوت مخلوط سے بنی جاوے،یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں یا تو سوتی یا اونی چادر تھی جس کے چوطرفہ حاشیوں پر ریشمی نقش و نگار بیل بوٹے تھے چار انگل یعنی ہماری ایک بالشت سے کم چوڑے یا وہ چادر اون و ریشم سے مخلوط تھی کہ تانا ریشم کا تھا بانا اون یا سوتی۔(مرقات)غرضیکہ بہت قیمتی چادرتھی۔
۳؎ یعنی میں نے ایسی قیمتی چادر شال اس لیے پہنی ہے کہ مجھے اللہ نے بہت دولت دی ہے تو اسے ظاہرکرتا ہوں شکریہ کے لیے۔
لطیفہ: منہاج العابدین میں ہے کہ فرقد سنجی ایک موٹا کمبل پہنے ہوئے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آیا،آپ نہایت ہی شاندار جوڑا پہنے ہوئے تھے تو فرقد بطور اعتراض آپ کے کپڑے ٹٹولنے لگا،امام حسن نے فرمایا کیادیکھتا ہے میرے کپڑے جنتیوں کے سے ہیں تیرے کپڑے دوزخیوں کے سے ہیں،مجھے حدیث پہنچی ہے کہ اکثر دوزخیوں کو موٹے کمبل پہنائے جائیں گے پھر فرمایا لوگوں کا کیا حال ہے کہ ان کے کپڑوں میں زہد ہے دلوں میں تکبر۔(مرقات)