Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
223 - 975
حدیث نمبر 223
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ و سلم نے اس کپڑے سے منع فرمایا جو خالص ریشمی ہو ا؎ لیکن نشان۲؎  اور کپڑے کا تانا اس میں حرج نہیں۳؎ (ابودا ؤد)
شرح
۱؎  اس طرح کہ اس کا تانا بانا دونوں ریشم کا ہو۔مصمت کے لغوی معنی ہیں ٹھوس اس کا مقابل ہے کھکل مگر اصطلاح میں خالص کو مصمت کہا جاتا ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔ریشم سے مراد اصل یعنی کیڑے کا ریشم کیونکہ سن کا ریشم اور دریائی ریشم مرد کو حلال ہے کہ وہ ریشم نہیں ہے۔ریشم اصل کی پہچان یہ ہے کہ اس کو جلا ؤ تو اس سے گوشت کے جلنے کی سی بو آتی ہے۔

۲؎  یعنی سوتی کپڑے پر نمبر یا کارخانہ کا نام یا کوئی علامت یوں ہی بیل بوٹا اگر ریشم کا ہو تو جائز ہے بشرطیکہ چار انگل سے زائد نہ ہو۔

۳؎  اس طرح کہ کپڑا کا بانا سوت یا اون کا ہو اور تانا ریشم کا تو مرد کے لیے حلال ہے کیونکہ کپڑا تانے بانے ہی کا نام ہے وہ ہی بنا جاتا ہے،لمبا تار تانا کہلاتا ہے،چوڑائی والا تار جو بناجاتا ہے اسے بانا کہتے ہیں،بانے کا اعتبار ہے تانے کا نہیں۔
Flag Counter