Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
222 - 975
حدیث نمبر 222
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ و سلم نے دیباج کی قبا پہنی جو آپ کو ہدیۃً پیش کی گئی تھی ۱؎ پھر جلد ہی اسے اتار دیا پھر وہ جناب عمر کے پاس بھیج دی کہا گیا یارسول اللہ  کس قدر جلد حضور نے اتار دیا تو فرمایا کہ مجھے اس سے جبریل نے منع کردیا ۲؎ تب حضرت عمر روتے ہوئے حاضر ہوئے عرض کی یارسول اللہ  ایک چیز حضور نے ناپسند کی اور مجھے عطا فرمائی۳؎  تو میرا کیا حال ہے فرمایا ہم نے تم کو اس لیے نہ دیا کہ تم اسے پہنو اس لیے دیا کہ اسے بیچ لو تو حضرت عمر نے وہ دو ہزار درہم میں بیچا ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎  اس وقت ریشم مردوں کے لیے ممنوع نہ ہوا تھا اور پہن لینے سے ہدیہ لانے والے کا دل خوش ہوتا اس لیے حضور انور نے پہن لیا۔

۲؎  یہ میرے پہنتے ہی جبریل امین رب العالمین کی طرف سے اس کے حرام ہونے کا حکم لے آئے اور اب سے مردوں کو ریشم پہننا حرام کردیا گیا،یہ مطلب نہیں ہے کہ حضور کو یہ مسئلہ معلوم نہ تھا حضرت جبریل نے بتایا،نہ یہ مطلب ہے کہ جبریل علیہ السلام نے حضور پر حرام فرمادیا لہذا حدیث واضح ہے۔

۳؎  یعنی کیا میں  حضو ر کی نظر میں مسلمان نہیں ہوں اس لیے حضور نے مجھے وہ لباس عطا فرمایا جو مسلمان کو پہننا ممنوع ہے۔یہ حضرت عمر کا انتہائی خوفِ الٰہی ہے۔

۴؎  نہ تو حضور انور نے خود فروخت کرکے اس کی قیمت استعمال فرمائی نہ حضرت عمر کو یہ حکم دیا کہ یہ کپڑا پنی عورتوں کو پہنادو بلکہ حکم دیا کہ اسے فروخت کرکے اس کی قیمت اپنے کام میں لا ؤ کیونکہ یہ کپڑا بہت ہی قیمتی تھا اور جناب عمر کو اس وقت پیسہ کی ضرورت تھی حضورکی کرم نوازی بندہ پروری کی نظر ہر خادم پر رہتی تھی،حضور تو اب بھی ہم غلاموں پر نظر پرورش رکھتے ہیں ہماری ضروریات پوری فرماتے ہیں باذن اللہ ۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں بھی بڑے قیمتی کپڑے تیار ہونے لگے تھے کہ ایک قبا کی قیمت دو ہزار درہم یعنی پانچ سو روپیہ تھی کیا شاندار کپڑا ہوگا۔
Flag Counter