Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
221 - 975
حدیث نمبر 221
روایت ہے حضرت عبدالواحد ابن ایمن سے ۱؎  وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ میں جناب عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان پر قطری قمیض  تھی پانچ درہم والی۲؎  آپ بولیں تم اپنی نظر اس میری لڑکی کی طرف تو اٹھا ؤ اسے دیکھو کہ یہ اس کو گھر میں پہننے سے نفرت کرتی ہے۳؎  اور اس کپڑے کی ایک قمیض  میرے پاس رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ و سلم کے زمانہ پاک میں تھی تو مدینہ میں کوئی لڑی دلہن نہ بنائی جاتی تھی مگر وہ میرے پاس بھیج کر مجھ سے منگالیتی تھی۴؎(بخاری)
شرح
۱؎   آپ تابعین سے ہیں،آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے،قاسم ابن عبدالواحد کے والد ہیں،قبیلہ بنی مخزوم سے ہیں،آپ نے بہت تابعین سے روایات لیں،آپ کے والد ایمن بھی تابعی ہیں،ابن ابی عمرو کے آزاد کردہ غلام ہیں۔

۲؎  پہلے عرض کیا گیا کہ قطری مصری کپڑے کا نام تھا۔

۳؎  یعنی یہ لڑکی لونڈی ہونے کے باوجود اسے گھر میں نہیں پہنتی اس سے نفرت کرتی ہے اس میں اپنی ذلت سمجھتی ہے ۔

۴؎  یعنی زمانہ اس قدر بدل چکا کہ چند سال پہلے یہ کپڑا نئی دلہنوں کو رخصت کرتے وقت پہنایا جاتا تھا اور اب لونڈیاں روزانہ کے کام کاج کے وقت بھی اسے گھر میں نہیں پہنتیں۔اس سے معلوم ہوا کہ دلہن کے لیے کپڑے عاریۃً مانگ لینا جائز ہے۔بخاری،احمد،نسائی نے حضرت انس سے مرفوعًا روایت فرمایا کہ ہر اگلا دن پچھلے دن سے اور اگلا سال پچھلے سال سے بدتر آوے گا،اس کی وجہ ظاہر ہے کہ زمانہ کو جس قدر نور نبوت سے دوری ہوگی اسی قدر تکلف بڑھیں گے نورانیت گھٹے گی۔(مرقات)اللہ  تعالٰی حسن خاتمہ نصیب فرماوے،دنیاوی تکلفات سے بچائے۔جب اس زمانہ میں ہی اس قدر فرق ہوچکا تھا تو اب اس زمانہ کا کیا پوچھنا ہے۔
Flag Counter