Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
219 - 975
حدیث نمبر 219
روایت ہے حضرت ابو امامہ سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ  عنہ نے نیا کپڑا پہنا تو فرمایا شکر ہے اس اللہ  کا جس نے مجھے وہ پہنایا جس سے میں اپنا ستر ڈھانپوں اور اس سے اپنی زندگی میں زینت حاصل کروں پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جو کوئی نیا لباس پہنے پھر کہے شکر ہے اس اللہ  کا جس نے مجھے وہ پہنایا جس سے میں اپنا ستر چھپالوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کروں۲؎  پھر پرانے کپڑے کی طرف توجہ کرے اسے خیرات دے۳؎ تو وہ اللہ  کی پناہ اور اللہ  کی حفاظت اور اللہ  کی پردہ پوشی میں ہوگا جیتے مرتے۴؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ،) ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎  آپ کا نام سعد ابن حنیف ہے،انصاری اوسی ہیں،اپنی کنیت میں مشہور ہوئے،حضور صلی اللہ  علیہ و سلم کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے اس لیے آپ کو تابعین میں سے مانا گیا۔  ۱۰۰ھ؁  میں وفات پائی،بانوے سال عمر پائی مدینہ منورہ کے علماء سے تھے رضی اللہ  عنہ۔

۲؎  یعنی لباس میں بہت سی خوبیاں ہیں ستر پوشی،زینت،سردی گرمی سے بچا ؤ،نماز کی ادائیگی لہذا یہ عظیم الشان نعمتوں سے ہے۔

۳؎  اس سے معلوم ہوا کہ نیا کپڑا،نیا جوتا،نئی ٹوپی۔غرضکہ نیا لباس ملنے پر پرانا خیرات کردینا بہت ہی ثواب کا باعث ہے،پرانی چیز کو یوں پھینک کر برباد نہ کر دے کسی غریب کو دیدے اس کے کام آجائے گی مگر ہمیشہ پرانی ہی چیز خیرات نہ کرے کبھی نئی اور دل پسند چیزبھی خیرا ت کرے"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ "اور پرانا کپڑا ہمیشہ خیرات ہی نہ کردے کبھی خود بھی پہنے لہذا یہ حدیث نہ تو اس آیت مذکورہ کے خلاف ہے اور نہ اس حدیث عائشہ صدیقہ کے،بغیر پیوند لگے کپڑے کو پرانا نہ سمجھو کہ یہاں سخاوت کی تعلیم ہے وہاں تواضع کی۔

۴؎  سبحان اللہ! یہ رب تعالٰی کا کرم و بندہ نوازی ہے کہ ہم معمولی پھٹے پرانے کپڑے خیرات کریں اور وہ اس کی ایسی بہترین جزائیں عطا فرمائے۔جب پھٹے پرانے کپڑوں کی خیرات پر یہ ثواب ہے تو نئے کپڑوں کی خیرات پرکتنا ثواب ہوگا۔جیتے مرتے پردہ پوشی کے معنی یہ ہیں کہ اللہ  تعالٰی اسے زندگی میں اور بعد موت رسوا نہ ہونے دے گا،اس کے عیب چھپا بھی لے گا بخش بھی دے گا۔
Flag Counter