| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابو مطر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جناب علی نے ایک کپڑا تین درہم(بارہ آنہ)کا خریدا پھر جب اسے پہنا تو فرمایا اس اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے زینت کے لباس میں سے وہ عطا فرمایا جس سے میں لوگوں میں زینت حاصل کروں۲؎ اور اس سے اپنا ستر ڈھانپوں پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو اسی طرح کہتے سنا ۳؎(احمد)
شرح
۱؎ ابو مطر تابعی ہیں مگر ان کا نام و حالات معلوم نہ ہوسکے۔تقریب میں فرمایا کہ آپ کی ملاقات حضرت علی سے ثابت نہیں لہذا یہ حدیث منقطع ہے یعنی درمیان سے ایک راوی چھوٹ گیا ہے،حجاج ابن ارطات نے کہا کہ آپ ثقہ ہیں۔ ۲؎ ریش کے لغوی معنی ہیں چڑیا کے،چونکہ پر اس کے لیے زینت ہیں اس لیے اب بمعنی زینت آتا ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"یُوٰرِیۡ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیۡشًا"یہ ہے امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کا شکر کہ صرف تین درہم یعنی بارہ تیرہ آنے کا معمولی لباس پہن کر ایسا شکریہ ادا کررہے ہیں۔ ۳؎ اسی سنت پرعمل کرتے ہوئے میں بھی یہ کہتا ہوں مسلمان کو چاہیے کہ اللہ تعالٰی کی ہر نعمت پر شکریہ اداکرے اعلیٰ ہو یا معمولی۔