Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
217 - 975
حدیث نمبر 217
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ جناب اسماء بنت ابوبکر صدیق رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۱؎  ان پر باریک کپڑے تھے۲؎ حضور نے ان سے منہ پھیرلیا۳؎  اور فرمایا اے اسماء عورت جب بلوغ کو پہنچ جائے۴؎  تو جائز نہیں کہ اس کا کوئی حصہ دیکھا جائے سوائے اس کے اور اس کے اور اشارہ فرمایا اپنے چہرے اور ہاتھوں کی طرف ۵؎(ابودا ؤد)
شرح
۱؎  حضرت اسماء حضور صلی اللہ  علیہ و سلم کی سالی ہیں یعنی عائشہ صدیقہ کی بہن،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ  عنہ کی صاحبزادی ہیں،یہ واقعہ پردہ   فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔(مرقات)

۲؎  ان کی قمیض بھی باریک کپڑے کی تھی جس سے بازو وغیرہ نظر آتے تھے اور دوپٹہ بھی باریک تھا جس سے سر کے بال چمک رہے تھے۔معلوم ہوا کہ اس زمانہ میں بھی باریک کپڑے ایجاد ہوچکے تھے اب تو بہت ہی برا حال ہے۔

۳؎  یہ منہ پھیر لینا یاتو اظہار ناراضی کے لیے تھا یا نگاہ پاک کی حفاظت کے لیے،حضور صلی اللہ  علیہ و سلم نزول احکام سے پہلے بھی احکام پر عامل تھے۔

۴؎  اس طرح کہ قریب بلوغ ہوجائے مراہقہ،مراہقہ ہونے کی عمر یں مختلف ہیں۔تندرست لڑکیاں جلد اور کمزور لڑکیاں دیر سے اس حد کو پہنچتی ہیں اس لیے لڑکی کے بلوغ کی عمر نو برس سے پندرہ برس تک کی عمر ہے اور لڑکے کے لیے بارہ برس سے پندرہ برس تک،جیسی تندرستی و صحت ویسے ہی بلوغ۔خیال رہے کہ محیض کے معنی ہیں حیض مگر اس سے مراد ہے بلوغ کیونکہ لڑکی کا بلوغ اکثر اس سے ظاہر ہوتا ہے اگرچہ زیر ناف بال اور حمل بھی بلوغ کی علامت ہے،پستان کا ابھار اس کی خاص علامت نہیں۔

۵؎  اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ اگر باریک کپڑے میں سے جسم نظر آرہا ہو تو وہ ننگے جسم کے حکم میں ہے اس کو پہن کر نماز نہ ہوگی۔دوسرے یہ کہ عورت کے ہاتھ کلائیوں تک اور چہرہ ستر نہیں مگر اب اجنبی کو اس کا دیکھنا حرام ہے،یہ فرمان عالی پردہ فرض ہونے سے پہلے کا ہے۔
Flag Counter