۱؎ ہمیشہ یا نماز کے وقت عمامہ باندھا کرو۔عمامہ کے ساتھ ایک نماز بغیر عمامہ کی ستر نمازوں سے افضل ہے مگر عمامہ سنت کے مطابق چاہیے کہ ٹوپی پر باندھا جائے مع شملہ کے ہو،عام دنوں میں سات ہاتھ ہو جو جمعہ کی نماز میں بارہ ہاتھ،شملہ آدھی پیٹھ تک ہو سفید ہو یا سیاہ مگر سرخ رنگ کا نہ ہو۔عمامہ کے تفصیلی مسائل عالمگیری وغیرہ میں ملاحظہ کرو۔
۲؎ یا تو فرشتے رحمت کے نوری عمامہ باندھتے ہیں جو ان کی شان کے لائق ہے یا جب شکل انسانی میں آتے ہیں تو عمامہ باندھ کر آتے ہیں۔چنانچہ بدر میں جب غازیوں کی امداد کے لیے آئے تو عمامہ باندھتے تھے،قرآن کریم فرماتاہے:"یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمۡ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ"۔ان کی نشانیاں عمامے تھے،ان کے رنگ زرد تھے،شملے کندھوں پر پڑے تھے۔(مرقات)
۳؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم شملہ پشت کے پیچھے لٹکاتے تھے کبھی داہنی جانب سینہ پربھی ہوتا تھا،دونوں طریقے سنت ہیں۔