| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عکرمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے جناب ابن عباس کو دیکھا کہ وہ تہبند باندھتے تو اپنے تہبند کا اگلا کنارہ اپنے قدم کی پشت پر ڈالتے ۲؎ اور اس کے پیچھے سے اٹھاتے میں نے عرض کیا کہ آپ اس طرح کیوں تہبند باندھتے ہیں فرمایا اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یوں ہی ازار پہنتے دیکھا۳؎(ابودا ؤد)
شرح
۱؎ آپ عکرمہ ابن ابوجہل نہیں ہیں وہ تو صحابی ہیں بلکہ آپ عکرمہ تابعی ہیں،حضرت ابن عباس کے کاتب اور آزاد کردہ غلام،فقہاء مکہ معظمہ سے ہیں،اسّی سال عمر پائی، ۱۰۷ ایک سو سات میں وفات پائی۔ ۲؎ تہبند باندھنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہوتا ہے کہ اگلے حصہ کا کنارہ زیادہ نیچا ہو حتی کہ قدم پر پڑ جائے اور پچھلا حصہ اونچا ہو اس میں پچھلے حصہ کا اعتبار ہے۔ ۳؎ اس طرح تہبند باندھنا حضور سے کبھی کبھی ثابت ہوا ہے۔اس سے صرف حضرت ابن عباس ہی کو اطلاع ہوئی اور صحابی سے یہ عمل ثابت نہیں۔(مرقات)