Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
214 - 975
حدیث نمبر 214
روایت ہے ان ہی سے کہ نبی صلی اللہ  علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو کوئی اپنا کپڑا تکبرًا نیچا رکھے ۱؎  تو قیامت کے دن اللہ  اس کیطرف نظر نہ فرمائے گا ۲؎ حضرت ابوبکر نے عرض کیا یارسول اللہ  میرا تہبند لٹک جاتا ہے۳؎ مگر یہ کہ اس کا بہت ہی خیال رکھوں ان سے رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم ان لوگوں سے نہیں جو یہ کام تکبرًا کریں ۴؎(بخاری)
شرح
۱؎  کپڑے سے مراد تہبند یا پائجامہ ہے اور نیچے سے مراد ٹخنوں کے نیچے ہے۔تکبرًا فرما کر اشارہ کیا گیا کہ فیشن یا فخر کے لیے یہ حرکت مکروہ تحریمی ہے،بے خیالی میں نیچے ہوجانا اتنا سخت ممنوع نہیں جیساکہ آئندہ مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔غرضیکہ ان قیود سے بہت مسائل معلوم ہوئے۔

۲؎  یعنی نظر رحمت،نظر کرم و عنایت نہ فرمائے گا۔اس کی شرح پہلے ہوچکی۔

۳؎  یعنی میں خود تو نہیں لٹکاتا بلکہ تہبند خود ہی لٹک جاتا ہے شکم کسی قدر بھاری ہے اس لیے پیٹ سے سرک جاتا ہے نہ ارادہ ہے نہ غرور۔

۴؎  یعنی ہم نے تکبروغرور سے تہبند نیچا رکھنے سے ممانعت کی ہے تم کو غرور سے دور کا بھی تعلق نہیں اور پھر قصدًا لٹکاتے بھی نہیں لہذا تم اس حکم کی زد میں نہیں آتے۔
Flag Counter