| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت دحیہ ابن خلیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں قباطی کپڑے لائے گئے ۲؎ تو حضور نے مجھے اس میں سے ایک قبطی عطا فرمایا پھر فرمایا اس کے دو ٹکڑے کرلو ان میں سے ایک کی قمیض کٹوا لو اور دوسرا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کا دوپٹہ بنالیں۳؎ پھر جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو فرمایا اپنی بیوی سے کہہ دو کہ اس کے نیچے اور کپڑا رکھیں جو ظاہر نہ ہونے دے۴؎(ابودا ؤد)
شرح
۱؎ آپ وہ ہی دحیہ کلبی مشہور صحابی ہیں جن کی شکل میں اکثر حضرت جبریل امین آیا کرتے تھے،انہی کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ۶ چھ ہجری میں قیصر روم کی تبلیغ کے لیے بھیجا تھا،احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے،شام میں قیام رکھا،حضرت امیر معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی،دحیہ دال کے کسرہ سے ہے۔ ۲؎ قباطی جمع ہے قبطیۃ کی۔یہ ایک خاص قسم کے کپڑے کا نام ہے جو باریک سفید ہوتا ہے،مصر میں بنتا ہے اگرچہ قبط قاف کے کسرہ سے ہے مگر قبطی کپڑا ق کے پیش سے ہے۔غالبًا کہیں سے ہدیۃً آئے تھے خریدے نہ گئے تھے۔ ۳؎ معلوم ہوا کہ یہ کپڑے ریشمی نہ تھے سوتی تھے ورنہ مرد کو اس کا پہننا حلال نہ ہوتا۔ ۴؎ معلوم ہوا کہ اس زمانہ شریف میں بھی ایسے باریک کپڑے ایجاد ہوگئے تھے جن سے سترحاصل نہ ہوسکتا تھا۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ عورت کو باریک کپڑے کا دوپٹہ اوڑھنا درست ہے۔دوسرے یہ کہ ایسے باریک کپڑے کے نیچے کوئی موٹا کپڑا ضرور سر پر رکھے تاکہ بال و سر ظاہر نہ ہوں ورنہ نماز درست نہ ہوگی اور بے پردگی بھی ہوگی،خاوند کے سامنے تنہائی میں ویسے بھی اوڑھ سکتی ہے۔