| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک چادر سے لپٹے ہوئے تھے ۱؎ جس کا پھندنا آپ کے قدموں پر پڑا تھا۲؎(ابودا ؤد)
شرح
۱؎ شملہ وہ کپڑا ہے جس پر انسان مشتمل ہو لپٹا ہوا ہو خواہ چادر ہو یا کمبل۔محتب بنا ہے احتباء سے جس کے معنی ہیں اکڑوں بیٹھنا یعنی حضور انور اکڑوں بیٹھے ہوئے چادر شریف سے لپٹے ہوئے تھے۔حضرات صحابہ کرام حضور کی ہر وضع قطع کی روایت فرماتے ہیں تاکہ انکی ہر کیفیت مسلمانوں کے ذہن نشین ہوجائے،محبوب کی ہر ادا ہی محبوب ہے۔ ۲؎ اب بھی اہل عرب یا تو کسی چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہیں،اگر ٹیک کا سہارا نہ ملے تو اپنے اردگرد چادر لپیٹ کر اس سے ٹیک کا کام لیتے ہیں اس وقت حضور کی یہ وضع تھی۔