| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے کالی چادر تیار کی گئی حضور نے وہ پہن لی تو جب اس میں پسینہ آیا اس سے اون کی بو محسوس کی تو اسے الگ فرمایا ۱؎(ابودا ؤد)
شرح
۱؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو بدبو بہت ہی ناپسندتھی کپڑے کی ہو یا منہ کی یا بغل یا کسی اور چیز کی،طبیعت پاک بہت ہی طیب و طاہر و لطیف تھی اس لیے گرمی میں حضور نے یہ اونی چادر علیٰحدہ کردی۔حجاج کو چاہیے کہ روضہ اطہر کی حضوری کے وقت معطر ہوکر حاضر ہوا کریں،بدبو دار کپڑے یا بدبودار منہ سے مسجدوں میں نہ جایا کریں عمومًا خوشبو کا استعمال کریں۔