۱؎ قتادہ تابعی ہیں،بصری ہیں،نابینا تھے،ان کی ولادت ۶۰ھ میں ہے اور وفات ۱۱۷ ہجری میں حضرت انس اور ابوطفیل سے روایات لیتے ہیں۔
۲؎ کیونکہ میز پر کھانا طریقہ منکرین ہے تاکہ کھانے کے آگے جھکنا نہ پڑے اور بہت چھوٹی پیالی میں کھانا طریقہ بخیلوں کا ہے تاکہ دوسرا آدمی ساتھ نہ کھاسکے،ساری بوٹیاں اور سالن ہم اکیلے ہی کھائیں۔سنت یہ ہے کہ کھانے کے آگے قدرے جھک کر بیٹھے۔(مرقات و اشعۃ اللمعات)
۳؎ بہت باریک روٹی اب بھی عرب شریف میں نہیں ہوتی،روٹی قدرے موٹی ہوتی ہے وہ صحت کے لیے بھی مفید ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چپاتی نہیں پکائی گئی لیکن اگر کوئی شخص چپاتی پیش کرتا تو حضور انور قبول فرماتے اور کھاتے تھے۔(اشعۃ اللمعات)
۴؎ دسترخوان کپڑے کا،چمڑے کا اورکھجور کے پتوں کا ہوتا تھا،ان تینوں قسم کے دسترخوانوں پر کھانا حضور نے کھایا ہے،دسترخوان بھی نیچے زمین پر بچھتا تھا اور خود سرکار بھی زمین پر تشریف فرما ہوتے تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ کھانا ملاحظہ فرماتے تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ میز پر کھانا بدعت جائزہ ہے اور دسترخوان پر کھانا سنت ہے۔