Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
20 - 975
حدیث نمبر 20
روایت ہے حضرت ابو جحیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں تکیہ لگا کر نہ کھاؤں گا ۲؎ (بخاری)
شرح
۱؎ آپ کا نام وہب بن عبداللہ سوائی ہے یعنی سواء ابن عامہ سے ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپ نابالغ تھے مگر حضور سے روایات لی ہیں،آپ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے وزیر خزانہ بنایا تھا،آپ حضرت علی کے ساتھ تمام جنگوں میں شریک رہے،آپ کوفہ میں ۷۴ھ؁ میں فوت ہوئے،آپ سے آپ کے بیٹے عوذ نے اور بہت سے تابعین بلکہ حضرت علی نے بھی روایات لیں۔(اشعہ ومرقات)

۲؎ کھاتے وقت تکیہ لگانے کی چارصورتیں ہیں:ایک یہ کہ ایک پہلو زمین سے قریب کرکے بیٹھے،دوسرے یہ کہ چار زانو بیٹھے،تیسرے یہ کہ ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر اس پر ٹیک لگا کر بیٹھے،چوتھے یہ کہ دیوار وغیرہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے یہ چاروں تکیے مناسب نہیں۔دو زانو یا اکڑوں بیٹھ کر کھانا اچھا ہے طبی لحاظ سے بھی مفید ہے،کھڑے ہوکر کھانا اچھا نہیں۔(اشعۃ اللمعات)
Flag Counter