| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے دیکھا اور مجھ پر کسم میں رنگے ہوئے گلابی کپڑے تھے ۱؎ تو فرمایا یہ کیا میں پہچان گیا کہ حضور نے ناپسند فرمایا ۲؎ تو میں چلا اسے میں نے جلاد دیا ۳؎ پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے کپڑے کا کیا کیا کہا کہ میں نے اسے جلادیا فرمایا تم نے وہ کپڑا اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہ پہنادیا اس میں عورتوں کے لیے حرج نہیں۴؎(ابودا ؤد)
شرح
۱؎ حالانکہ مرد کو گلابی کپڑے پہننے ممنوع ہیں میں نے بے خبری میں پہن لیے تھے۔ ۲؎ کیونکہ حضور انور کا یہ کیا فرمانا سوال کے لیے نہیں بلکہ اظہار تعجب اور انکار کے لیے ہے کہ تم نے میرے صحابی ہوکر یہ کیا کیا ،گلابی سرخ کپڑے کیوں پہن لیے۔ ۳؎ یہ ہے صحابہ کرام کا عشق رسول اوراس عشق کا جذبہ جس کپڑے سے اپنا پیارا ناراض ہو وہ اپنے گھر میں بھی نہ رکھا چہ جائیکہ بدن پر رکھتے،یہ نہ غور کیا کہ یہ مال کا بربادکرنا ہے اسراف یا تبذیر ہے،یہ تو وہ سوچے جو عقل کو حاکم بنائے عشق آیا عقل رخصت ہوگئی۔شعر اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے ۴؎ خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کام پر انہیں عتاب نہ فرمایا معذور رکھا آئندہ کے لیے مسئلہ بتادیا کہ عورتوں کو سرخ و گلابی رنگ کے کپڑے پہننا بالکل جائز ہے مردوں کو ممنوع ہیں،اس کی بحث پہلے ہوچکی ہے۔