Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
206 - 975
حدیث نمبر 206
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ  علیہ و سلم پر دو قطری موٹے کپڑے تھے اور حضور جب بیٹھتے تو پسینہ آجاتا آپ پر بوجھ کی وجہ سے ۱؎  پھر شام سے فلاں یہودی کا کپڑا آیا ۲؎  میں نے عرض کیا کہ کاش آپ  اس کے پاس کسی کو بھیجتے اس سے دو کپڑے روپیہ آنے تک خریدلیتے۳؎  چنانچہ حضور نے اس کے پاس بھیجا وہ بولا میں جانتا ہوں کہ آپ کیا چاہتے ہیں آپ چاہتے ہیں کہ میرا مال مار لیں۴؎  تو رسول اللہ  صلی اللہ  علیہ و سلم نے فرمایا کہ وہ جھوٹا ہے وہ جانتا ہے کہ میں ان سب میں زیادہ زیادہ پرہیزگار ان سب میں زیادہ امانت کا ادا کرنے والا ہوں ۵؎ (ترمذی،نسائی)
شرح
۱؎  یعنی گرمیوں میں ان کپڑوں میں پسینہ آجاتا تھا۔بعض لوگوں نے ثقلًا ماضی مطلق کا تشبہ پڑھا ہے۔

۲؎  اس یہودی فاجر کا نام نہ معلوم ہوسکا۔بز کہتے ہیں بغیر سلے کپڑے کو اور کپڑے کے تاجر کو بزاز کہا جاتا ہے۔بعض نے بز اور خز میں فرق کہا ہے سوتی کپڑا بز اور ریشمی کپڑا خز۔(مرقات)کپڑا آنے سے مراد ہے لوگ کپڑا لے کر آئے اس یہودی کے پاس۔

۳؎  یعنی اس وقت حضور کے پاس روپیہ نہیں ہے ادھار خریدلیں،اس سے وعدہ فرمالیں کہ فلاں تاریخ فلاں دن تک تم کو رقم دے دی جائے گی۔خیال رہے کہ ادھار خریداری میں وقت ادا معلوم ہونا ضروری ہے،یہ کہنا کہ جب روپیہ آئے گا تب قیمت دے دیں گے ناجائز ہے،یہ ہی حال پہلے حکم میں ہے کہ وہاں قیمت نقد ہوتی ہے چیز ادھار وہاں ادائیگی کا وقت مقرر ہونا ضروری ہے۔

۴؎  یعنی اس یہودی تاجر نے حضور صلی اللہ  علیہ و سلم کے قاصد سے جو آپ کی طرف سے کپڑا خریدنے گیا تھا یہ گستاخی کا جواب کہلا کر بھیجاکہ آپ قیمت ادا نہ کریں گے یوں ہی میرا مال لے لیں گے حالانکہ اس کا دل گواہی د ے رہا تھا کہ وقت پر قیمت وصول ہوجائے گی۔

۵؎ یعنی اس یہودی نے توریت شریف میں میرا سب سے زیادہ پرہیزگار بڑا امانت دار ہونا پڑھا ہے وہ منہ سے ایسی بکواس کررہا ہے جو اس کی توریت کی آیات کی خلاف ہے حضور کو تو مشرکین عرب بھی صادق الوعدہ اور امین کہہ کر پکارتے تھے،انہیں تو رب تعالٰی نے اپنا امین بناکر دنیا میں بھیجا ان جیسا امین نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔صلی اللہ  علیہ وسلم۔غالبًا اس نے کپڑا دیا نہیں۔اللہ  اکبر! آج ہم ان کے نام پر پلنے والے ململ،لٹھے،بوسکی پہنیں اور وہ خود باریک کپڑا منگائیں تو یہود نابہبود انکار کردے۔اللہ  کی شان ہے۔شعر

بوریا ممنوں خواب راحتش 	تاج کسریٰ زیر پائے امتش
Flag Counter