۱؎ آپ کے نام میں اختلاف ہے یا تو رفاعہ ابن یثربی ہے یا عمارہ ابن یثربی،قبیلہ تیم رباب سے ہیں نہ کہ تیم قریش سے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ تمیمی ہیں اپنے والد کے ساتھ آئے اور دونوں مسلمان ہوگئے بعد میں کوفہ میں قیام رہا۔(لمعات و مرقات و اشعۃ اللمعات)
۲؎ قمیض اور تہبند شریف یا تو بالکل سبز تھے یا اس میں سبز دہاریاں تھیں پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔جنتیوں کا لباس سبز ہوگا،رب تعالٰی فرماتاہے:"عٰلِیَہُمْ ثِیَابُ سُنۡدُسٍ خُضْرٌ"۔اس سے معلوم ہوا کہ مرد کو ہرے کپڑے پہنناجائز ہے اگر اس عمل شریف کی اتبا ع میں ہو تو مستحب ہے۔
۳؎ یعنی سر مبارک میں ایک آدھ بال شریف سفید تھا،شعر کی تنکیر کمی بیان کرنے کے لیے ہے۔حضور اقدس کے سفید بالوں کے متعلق تین روایات ہیں: چودہ بال شریف سفید تھے،سترہ تھے،بیس تھے،ہوسکتا ہے کہ اولًا چودہ بال شریف سفید ہوئے ہوں پھر آخر میں سترہ سر مبارک میں اور تین داڑھی شریف میں کل بیس لہذا تینوں روایات درست ہیں۔
۴؎ اس عبارت کے تین مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ وہ سفید بال مہندی سے سرخ کیے گئے تھے۔دوسرے یہ کہ عطر یا خوشبودار تیل کے رنگ سے سرخ تھے یا یہ کہ وہ خالص سفید نہ تھے بلکہ مائل بہ سرخی تھے جب بال سفید ہونے والا ہوتا ہے تو پہلے سرخ ہوتا ہے پھر سفید یا اولًا جڑ کی طرف سے سفید ہوتا ہے نوک کی طرف سے سرخ۔
۵؎ سر کے بال جو کان کی گدیا تک پہنچیں وفرہ کہلاتے ہیں اور جو کان و کندھوں کے درمیان ہوں انہیں حجہ کہا جاتا ہے اور اگر کندھوں تک پہنچ جائیں تو لمہ ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بال شریف کبھی وفرہ ہوتے تھے کبھی حجہ،کبھی لمہ۔کندھوں سے نیچے بال مردوں کے لیے بہتر نہیں۔اس کی تحقیق ان شاءاللہ حلیہ شریف کی احادیث میں ہوگی۔
۶؎ یعنی ان چند سفید بالوں کو مہندی سے سرخ کیا گیا تھا مگر یہ ان کا اپنا خیال ہے۔حق یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی خضاب نہ لگایا نہ سرخ نہ کسی اور رنگ کا،آپ کے بال شریف خضاب کی حد تک سفید ہوئے ہی نہیں،جب سرکار سر میں تیل ڈالتے تو وہ سفید بال ظاہر ہوتے تھے ورنہ نہیں چند سفید بال ظاہر نہیں ہوا کرتے،ہاں یہ ثابت ہے کبھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ٹھنڈک کے لیے سر شریف میں مہندی لگائی ہے۔(اشعہ)نیز داڑھی شریف بھی مہندی سے دھوئی ہے یعنی صفائی کے لیے مہندی لگاکر دھو ڈالی ہے۔