۱؎ معاویہ نام کے بہت صحابہ ہیں مگر جب مطلقًا معاویہ بولا جاوے تو اس سے مراد حضرت امیر معاویہ ابن ابوسفیان ہوتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہیں۔
۲؎ یعنی گھوڑے کی کاٹھی پر ریشمی گدیلہ یا چیتے کی کھال ڈال کر اس پر سوار نہ ہو،درندوں جانوروں کی کھالوں کو پہننے یا بچھانے سے دل میں تکبر پیدا ہوتا ہے جیسے ہرن کی کھال پر بیٹھنے یا اسے پہننے سے نامردی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔بعض شارحین نے نمار کے معنی کیے ہیں دہاری دار کمبل مگر یہ قوی نہیں کیونکہ دہاری دار کمبل بچھانا ممنوع نہیں،نیز اس کی جمع نور ہے نہ کہ نمار،نیز جامع صغیر کی روایت میں ہے عن جلود النمار یعنی نمار کی کھال سے منع فرمایا۔(مرقات)