| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس اس حالت میں موجود رہتا ہے ۱؎ حتی کہ اس کے کھانے کے وقت بھی آموجود ہوتا ہے تو جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو جو اس میں گندگی ہو وہ دورکردے ۲؎ پھر اسے کھالے اور اسے شیطان کےلیے نہ چھوڑے۳؎ پھرجب فارغ ہوجائے تواپنی انگلیاں چاٹ لے کہ وہ نہیں جانتا کہ اس کے کس کھانے میں برکت ہوگی ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ کھاتے پیتے وقت،پیشاب پاخانہ،نماز و دعا حتی کہ اپنی بیوی سے صحبت کرتے وقت بھی قرینی شیطان انسان کے ساتھ رہتا ہے ساتھ ہی کھاتا پیتا حتی کہ ساتھ ہی صحبت کرتا ہے جس سے کھانے میں بہت بے برکتی ہوتی ہے اور اولاد بے ادب سرکش ہوتی ہے،اگر ان اوقات میں بسم اللہ پڑھ لی جائے تو کھانوں میں برکت ہوتی ہے اولاد نیک و صالح اور با ادب پیدا ہوتی ہے،اگر پاخانہ جاتے وقت بسم اللہ پڑھ لی جائے تو شیطان اس کا ستر نہیں دیکھ سکتا۔ ۲؎ اگر گرے ہوئے لقمہ میں مٹی وغیرہ پاک چیز لگ گئی ہے تو اسے صاف کرکے لقمہ کھائے اور اگر نجاست لگ گئی ہے تو دھوکر کھالے،اگر دھل نہ سکے تو کتے بلی کو کھلادے یوں ہی نہ چھوڑ دے کہ اسمیں مال ضائع کرنا ہے اور رب تعالٰی کی نعمت کی ناقدری ہے۔ ۳؎ کہ اس چھوڑے ہوئے لقمہ کو یا تو شیطان کھا ہی لے گا یا اسکے ضائع ہونے پر خوش ہوگا شیطان کے دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ ۴؎ لہذ کچھ بھی نہ چھوڑے سب ہی چاٹ لے،اگر فی آدمی ایک ماشہ کھانا بھی برتن میں لگا رہا جو برتن دھوتے ہوئے نالیوں میں گیا تو حساب لگالو کہ جس شہر میں آٹھ دس لاکھ آدمی رہتے ہوں تو دو دفعہ کتنا کھانا نالیوں میں جاتا ہے،یہ فضول خرچی بھی ہے،مال ضائع کرنا بھی،کھانے کی بے ادبی بھی اس لیے کچھ بھی نہ چھوڑو برتن کو اچھی طرح صاف کرو کھانے کا احترام و ادب یہ ہی ہے یا اتنا چھوڑو کہ دوسرا آدمی کھاسکے۔