Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
197 - 975
حدیث نمبر 197
روایت ہے ابوالاحوص سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا مجھ پر معمولی کپڑے تھے ۲؎  تو فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے کہا ہاں فرمایا کون سا مال ہے میں نے کہا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کے مال سے دیا ہے۳؎  اونٹ گائے اور بکری اور گھوڑے اور غلام فرمایا تو جب تجھے اللہ نے مال دیا ہے تو چاہیے کہ اللہ کی نعمت اس کی بخشش کا اثر تجھ پر دیکھا جائے ۴؎ (احمد،نسائی)اور شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ سے ہے ۵؎
شرح
۱؎  آپ تابعین میں سے ہیں،آپ کا نام عوف ابن مالک ابن نضر ہے،آپ نے اپنے والد اور ابن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم صحابہ سے ملاقات کی،آپ سے خواجہ حسن بصری ابو اسحاق اور عطاء ابن سائب نے احادیث روایت کیں۔آپ کے والد مالک ابن نضر صحابی ہیں۔

۲؎  جو میری مالی حیثیت سے کم تھے مجھے خدا تعالٰی نے بہت غنی کیا ہوا تھا مگر کپڑے پھٹے پرانے کم قیمت زیب تن کیے ہوئے تھے۔

۳؎  یعنی عرب میں جس مال کی بہت قدر ہوتی ہے جانور اور غلام ان میں سے اللہ نے مجھے ہر مال دیا ہے۔عرب میں جانوروں کی ملکیت کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا جیسے آج کل مربے اور شہری جائیداد والے کی بڑی عزت ہوتی ہے۔

۴؎  یعنی قیمتی اور صاف کپڑے پہنو تاکہ لوگ سمجھیں کہ تم پر اللہ کا فضل ہے یہ بھی اللہ کا شکر یہ ہے۔مطلب وہ ہی ہے کہ شکر کے لیے اچھا لباس پہنے فخر کے لیے نہ پہنے،کبھی اچھا لباس پہنے شکر کے لیے کبھی معمولی پہنے انکسار کے طور پر۔اپنے کو اچھے کھانے  اچھے لباس کا عادی نہ بنائے کہ کبھی معمولی کھا پی نہ سکے۔

۵؎  یعنی ان دونوں روایتوں کے الفاظ مختلف ہیں مضمون ایک ہی ہے۔
Flag Counter