| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ملاقات کے لیے تشریف لائے ۱؎ تو ایک شخص کو پراگندہ بال دیکھا کہ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۲؎ تو فرمایا کہ یہ شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے اپنے سر کو جمع کرے۳؎ اور ایک شخص کودیکھا جس پر میلے کپڑے تھے تو فرمایا یہ شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے اپنے کپڑے دھولے۴؎ (احمد،نسائی)
شرح
۱؎ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے غلاموں خادموں سے ملاقات کے لیے انکے گھروں پر کبھی تشریف لے جاتے تھے اس میں ان کی عزت افزائی ہوتی تھی۔زائر فرماکر یہ بتایا کہ یہ تشریف کسی کی بیمار پرسی یا شادی وغیرہ کی تقریب کے سلسلہ میں نہ تھی صرف ہم کو نوازنے کے لیے تھی۔ ۲؎ یا ہمارے گھر میں یا راستہ میں ایسے شخص کو دیکھا۔ ۳؎ یعنی کہا اس کے پاس تولہ دو تولہ تیل بھی نہیں کہ بالوں میں لگاکر کنگھی کرے جس سے اس کے بال بکھریں نہیں بلکہ مجتمع ہوجائیں۔ ۴؎ یعنی کیا اسے تھوڑا سا صابن میسر نہیں جس سے کپڑے صاف کرے۔خیال رہے کہ عزت اور تکبر میں فرق ہے تکبر کے لیے اچھا لباس پہننا ممنوع ہے اس کے لیے ارشاد ہوا البذاذۃ من الایمان اورعورت کے لیے اعلیٰ لباس پہننا اچھا ہے جس کے متعلق یہاں یہ ارشاد ہوا لہذا دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔