۱؎ یعنی جسے رب تعالٰی نے مال دیا ہے تو وہ بخل کی بنا پر بہت ہلکے کپڑے نہ پہنے بلکہ کبھی اچھے کپڑے پہنے تاکہ اللہ تعالٰی کی نعمت کا اظہار ہو اور فقراء اسے غنی سمجھ کر اس سے کچھ مانگ بھی سکیں،اگر اللہ نے عالم دین بنایا ہے تو عالمانہ لباس پہنے تاکہ حاجتمند لوگ اس سے مسئلے پوچھ سکیں،رب کی نعمت کا اظہار بھی شکر ہے اس کی نعمت چھپانا کفران ہے۔یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ معمولی کپڑے پہننا ایمان سے ہے۔وہاں تکبر تکلف کی ممانعت تھی یہاں شکر اور اظہارِنعمت الٰہی کا حکم ہے،ایک ہی چیز ایک نیت سے بری ہوتی ہے دوسری نیت سے اچھی۔