Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
193 - 975
حدیث نمبر 193
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جوکسی قوم سے مشابہت کرے گا تووہ ان ہی میں سے ہوگا ۱؎(احمد،ابودا ؤد)
شرح
۱؎  یعنی جوشخص دنیا میں کفار،فاسق و بدکار کے سے لباس پہنے انکی سی شکل بنائے کل قیامت میں ان کے ساتھ اٹھے گا اور جو متقی مسلمانوں کی سی شکل بنائے انکا لباس پہنے وہ کل قیامت میں ان شاءاللہ متقیوں کے زمرہ میں اٹھے گا۔خیال رہے کہ کسی کی سی صورت بنانا تشبہ ہے اور کسی کی سی سیرت اختیارکرنا تخلق ہے یا تشبہ فرمایا گیا ہے۔

حکایت: غرق فرعون کے دن سارے فرعونی ڈوب گئے مگر فرعونیوں کا بہروپیا بچ گیا،موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی مولیٰ یہ کیوں بچ گیا،فرمایا اس نے تمہارا روپ بھرا ہواتھا ہم محبوب کی صورت والے کو بھی عذاب نہیں دیتے۔(مرقات)مسلمان کو چاہیے کہ نماز و روزہ وغیرہ عبادات میں بھی اچھوں خصوصًا اچھوں سے اچھے یعنی محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کی نقل کرنے کی نیت کرے،دل لگے یانہ لگے شکل تو حضور کی سی بن جاتی ہے۔یہاں من تشبہ ہے من تخلق نہیں۔ان شاءاللہ اصل کی برکت سے خدا ہم نقالوں کو بھی بخش دے گا۔

مسئلہ: جو ہیئت جو لباس کفار کی مذہبی علامت ہے وہ مسلمان کے لیے کفر ہے جیسے پیشانی پر قشقہ لگانا یا سر پر چوٹی رکھنا یا کان میں جنیئو باندھنا یا گلے میں عیسائیوں کی سی صلیب ڈالنا۔اور جو ہیئت و لباس کفار کی قومی علامت ہے وہ مسلمانوں کے لیے حرام ہے جیسے ہندوانی دھوتی یا عیسائیوں کا ہیٹ و نیکر اس حدیث کا یہ ہی مطلب ہے۔یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اگر جہاد میں کوئی مسلمان جو کفار کی سی شکل و صورت رکھتا ہو دھوکہ سے مسلمان غازیوں کے ہاتھوں مارا جائے تو یہ غازی گنہگار نہیں وہ مرنے والا اپنی اس حرکت کی وجہ سے انہیں میں شمار ہوگا غرضیکہ یہ حدیث بہت جامع ہے۔
Flag Counter