Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
192 - 975
حدیث نمبر 192
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو دنیا میں شہرت کا لباس پہنے گا ۱؎  اسے اللہ تعالٰی قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا ۲؎(احمد،ابودا ؤد ابن ماجہ)
شرح
۱؎  یعنی جو ایسا لباس پہنے جس سے لوگ اسے امیر جانیں یا ایسا لباس پہنے جس سے اسے لوگ بڑا تارک الدنیا فقیر صوفی ولی سمجھیں یہ دونوں قسم کے لباس شہرت کے لباس ہیں،بعض لوگوں کو ٹاٹ پہنے دیکھا گیا یہ بھی شہرت کا لباس ہے۔غرضیکہ جس لباس میں یہ نیت ہو کہ اس کی طرف لوگوں کی انگلیاں اٹھیں،لوگ اس کی عزت کریں خواہ امیر سمجھ کر خواہ ولی سمجھ کر وہ اس کی شہرت ہے،عزت اللہ رسول کی ہے جسے چاہیں دیں۔مرقات نے فرمایا کہ مسخرہ پن کا لباس پہننا جس سے لوگ ہنسیں یہ بھی لباس شہرت ہے۔

۲؎  قیامت میں سب لوگ ننگے اٹھیں گے پھر میدان محشر میں سب کی تن پوشی کی جائے گی،شہرت کا لباس پہننے والوں کو وہ لباس ملے گا جس سے انکی ذلت ظاہر ہو اس کے عکس کا حکم بھی برعکس ہی ہوگا کہ جو شخص سادہ لباس پہنے باوجود قدرت کے لباس فاخرہ نہ پہنے ان شاءاللہ اسے قیامت میں لباس عزت ملے گا بشرطیہ نیت صادق ہو۔
Flag Counter