۱؎ یعنی جو ایسا لباس پہنے جس سے لوگ اسے امیر جانیں یا ایسا لباس پہنے جس سے اسے لوگ بڑا تارک الدنیا فقیر صوفی ولی سمجھیں یہ دونوں قسم کے لباس شہرت کے لباس ہیں،بعض لوگوں کو ٹاٹ پہنے دیکھا گیا یہ بھی شہرت کا لباس ہے۔غرضیکہ جس لباس میں یہ نیت ہو کہ اس کی طرف لوگوں کی انگلیاں اٹھیں،لوگ اس کی عزت کریں خواہ امیر سمجھ کر خواہ ولی سمجھ کر وہ اس کی شہرت ہے،عزت اللہ رسول کی ہے جسے چاہیں دیں۔مرقات نے فرمایا کہ مسخرہ پن کا لباس پہننا جس سے لوگ ہنسیں یہ بھی لباس شہرت ہے۔
۲؎ قیامت میں سب لوگ ننگے اٹھیں گے پھر میدان محشر میں سب کی تن پوشی کی جائے گی،شہرت کا لباس پہننے والوں کو وہ لباس ملے گا جس سے انکی ذلت ظاہر ہو اس کے عکس کا حکم بھی برعکس ہی ہوگا کہ جو شخص سادہ لباس پہنے باوجود قدرت کے لباس فاخرہ نہ پہنے ان شاءاللہ اسے قیامت میں لباس عزت ملے گا بشرطیہ نیت صادق ہو۔