۱؎ ابو امامہ دو ہیں اور دونوں صحابی ہیں: ایک ابو امامہ باہلی جو قبیلہ بنی باہلہ سے ہیں،دوسرے وہ جن کا نام ایاس ابن ثعلبہ ہے،یہ انصاری ہیں،یہاں یہ دوسرے ابو امامہ مراد ہیں،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے رضی اللہ عنہم اجمعین۔
۲؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی بیان کیا گیا کہ معمولی لباس پھٹے پرانے کپڑے پہننے سے شرم و عار نہ ہونا کبھی پہن بھی لینا مؤمن متقی کی علامت ہے،ہمیشہ اعلیٰ درجہ کے لباس پہننے کا عادی بن جانا کہ معمولی لباس پہنتے شرم آئے طریقہ متکبرین کا ہے۔یہاں ایمان سے مراد کمالِ ایمان ہے،اس حدیث کو احمد،ابن ماجہ اور حاکم نے ابو امامہ حارثی سے روایت کیا۔(مرقات)