Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
188 - 975
حدیث نمبر 188
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب نیا کپڑا پاتے تو اس کا نام رکھتے عمامہ یا قمیض  ۱؎  یا چادر پھر کہتے الٰہی تیرا شکر ہے جیسے تو نے مجھے یہ پہنایا ویسے ہی میں اس کپڑے کی خیر اور جس کے لیے یہ بنایا گیا اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا اس کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۲؎ (ترمذی، ابوداؤد)۳؎
شرح
۱؎  حضور انور حتی الامکان نیا کپڑا جمعہ کو پہنتے تھے اور نیا کپڑا پہن کر پرانا خیرات فرمادیتے تھے۔(مرقات)پھر پہلے اس کا نام معین فرماتے کہ یہ چادر اوڑھتا ہوں یا قمیض  پہنتا ہوں یا تہبند پھراسے زیب تن فرماتے،ان کی ہر ہر ادا پر کروڑوں درود۔

۲؎  کپڑے کی خیر یہ ہے کہ کپڑا پہن کر نیک اعمال کی توفیق ملے اور کپڑے کی شر یہ ہے کہ کپڑے پہن کر گناہ کرے،کپڑے پہن کر نماز پڑھنا خیر ہے اور کپڑے پہن کر چوری کرنا اس کی شر ہے اور بندہ اللہ تعالٰی ہی کے کرم سے خیرکرسکتا ہے شر سے بچ سکتا ہے،نیز کپڑا پہن کر حمدوشکر کرنا کپڑے کی خیر ہے اس پر فخرکرنا اس کپڑے کی شر۔

۳؎  یہ حدیث احمد،نسائی،ابن حبان نے اور حاکم نے مستدرک میں ان ہی راوی سے روایت کی۔شرح سنہ بروایت حضرت ابن عمر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت علی کو سفید قمیض  پہنے دیکھا تو فرمایا کہ نئی ہے یا دھلی ہوئی عرض کیا نئی،فرمایا البس جدیدا عش حمیدًا ومت شھیدا یعنی نیا لباس پہنو اچھے جیو شہید مرو رضی اللہ عنہ۔
Flag Counter