| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت معاذ ابن انس سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو کھانا کھائے پھر کہے شکر ہے اس اللہ کا جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری بغیر قوت و طاقت کے مجھے یہ عطا فرمایا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۲؎(ترمذی)اور ابودا ؤد نے یہ زیادتی کی کہ جو کوئی کپڑا پہنے تو کہے شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے یہ پہنایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عطا فرمایا تو اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۳؎
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،قبیلہ جند سے ہیں،مصر میں قیام رہا،آپ سے آپ کے فرزند سبل نے احادیث روایات کیں۔ ۲؎ زبان سے یہ کلمات کہے اور دل میں عقیدہ رکھے کہ مجھے جو کچھ مل رہا ہے میرے علم و عقل کا نتیجہ نہیں صرف میرے رب کا فضل ہے ورنہ مجھ سے اچھے اچھے مارے مارے پھررہے ہیں بڑی مصیبتوں میں ہیں تو ان شاءاللہ مغفرت ہوگی۔ ۳؎ حاکم نے مستدرک میں بروایت عائشہ صدیقہ مرفوعًا روایت کی،فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کوئی ایک یا آدھے دینار کا کپڑا خریدے اس پر رب تعالٰی کی حمدکرے تو یہ کپڑا اس کے گھٹنوں پر پیچھے پہنچے گا گناہ پہلے بخش دیئے جائیں گے۔(مرقات)اس کی مثل طبرانی نے حضرت ابو امامہ سے روایت کی کچھ فرق کے ساتھ۔