Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
186 - 975
حدیث نمبر 186
روایت ہے حضرت رکانہ سے ۱؎  وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے روایت فرماتے ہیں کہ ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر عمامے ہیں۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور انس کی اسناد قوی و قائم نہیں۔
شرح
۱؎  آپ  رکانہ ابن عبد یزید ابن ہاشم ابن عبدالمطلب ہیں،قریشی ہاشمی ہیں،بڑے محدث بڑے شجاع صحابی ہیں، خلافت عثمانی میں وفات پائی۔

۲؎  یعنی بغیر ٹوپی عمامہ باندھنا طریقہ مشرکین ہے اور ٹوپی پر عمامہ باندھنا طریقہ مؤمنین ہے لہذا ٹوپی پر عمامہ باندھو ٹوپی خواہ سر سے چمٹی ہوئی ہو یا اٹھی ہوئی جسے پنجابی میں کلاہ کہتے ہیں۔(مرقات)عمامہ بہت افضل ہے،بغیر عمامہ کی ۷۰ نمازیں اور عمامہ سے ایک نماز برابر ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ٹوپی پر عمامہ اس طرح باندھے کہ ٹوپی کھلی نہ رہے اگر کلاہ ہو تو اس کے نیچے بھی عمامہ کا کچھ حصہ ہو۔ٹوپی کھلے رہنے میں اعتجار کا احتمال ہے۔اعتجار یہ ہے کہ سر کے آس پاس عمامہ ہو بیچ حصہ کھلا ہو جیسے کہ عام دیہاتی باندھتے ہیں یہ ممنوع ہے۔
Flag Counter