۱؎ یعنی میرے سر پر خود اپنے دستِ مبارک سے عمامہ لپیٹا۔آج کل فارغ التحصیل طلباء کے سروں پر علماء عمامے لپیٹتے ہیں جسے رسم دستار بندی کہا جاتا ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے۔
۲؎ اس طرح کہ عمامہ کا پہلا شملہ تو سینہ پر ڈالا اور آخری شملہ پیٹھ پر ڈالا یہ ہی سنت ہے۔بعض لوگ آخری شملہ اونچا رکھتے ہیں جسے طرہ کہتے ہیں یہ خلاف سنت ہے،ہاں یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ دوسرا شملہ کبھی رکھا گیا ہے کبھی نہیں۔خیال رہے کہ نماز پنجگانہ کے لیے سات ہاتھ اور نماز جمعہ کے لیے بارہ ہاتھ کا عمامہ بہتر ہے،اس کا شملہ کم از کم چار انگل ہو زیادہ سے زیادہ آدھی پیٹھ تک اس سے زیادہ ممنوع ہے۔شملہ پشت پر رہے یا داہنے ہاتھ کی طرف سینہ پر،بائیں ہاتھ کی طرف سنت کے خلاف ہے،کھڑے ہوکر باندھنا سنت ہے مسجد میں باندھے یا کہیں اور۔