۱؎ آپ معاویہ ابن قرہ ابن ایاس مزنی ہیں،تابعی ہیں،جنگ جمل کے دن پیدا ہوئے،اپنے والد اور انس ابن مالک،عبداللہ ابن مفضل صحابہ سے ملاقات ہے،ان کے والد صحابی ہیں،بصرہ میں قیام رہا،ان سے روایت صرف ان کے بیٹے معاویہ نے ہی کی،یہ قوم ازارقہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔(مرقات)
۲؎ تین سے لےکر دس تک کی جماعت کو رھط کہتے ہیں۔مزینہ والے لوگ چار سو تھے جو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں باری باری حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے،ایک ٹولی میں یہ تھے لہذا یہ حدیث اور چار سو والی روایت کے خلاف نہیں۔
۳؎ جیب کہ لفظی معنی ہیں پھٹن،اصطلاح میں گریبان کو جیب کہتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا گریبان شریف سینہ پر نہ ہوتا تھا بلکہ گردن شریف کے داہنے بائیں جگہ کھلی تھی جس سے قمیض پہنتے اور اتارتے تھے مگر آج گریبان والی قمیض زیب تن فرما تھے جیساکہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔بعض لوگوں نے سینہ پر گریباں بنانے کو بدعت کہا ہے مگریہ غلط ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ گریباں بھی ثابت ہے۔(مرقات)آپ کا گریبان شریف میں ہاتھ ڈال دینا بے ادبی سے نہ تھا بلکہ اس مقصد کے لیے تھا جو آگے آرہا ہے یعنی مہر نبوت کو چھوکر بوسہ دینا۔
۴؎ مہر نبوت شریف کا ذکر ان شاءاللہ عنقریب آوے گا،یہ چھونا برکت حاصل کرنے اور بوسہ دینے کے لیے تھا۔