۱؎ اطیب بنا ہے طیب سے اگر طیب خبیث کا مقابل ہو تو بمعنی حلال ہوتا ہے جیسے رب تعالٰی کا فرمان:"لَا یَسْتَوِی الْخَبِیۡثُ وَالطَّیِّبُ"ورنہ اس کے معنی ہوتے پسندیدہ شرعًایا عقلًا یا طبعًا یہاں اس ہی آخری معنی میں ہے یعنی سفید کپڑا پاکیزہ بھی ہے کہ ذرا سا دھبہ دور سے معلوم ہوجاتا ہے اور دھولیا جاتا ہے،رنگین کپڑے کے داغ دھبے نظر نہیں آتے،نیز رنگین کپڑے کے دھونے میں رنگ دھل جانے کا خطرہ ہوتا ہے سفید کپڑے میں یہ خطرہ نہیں،نیز سفید کپڑا اپنے پیدائشی رنگ پر ہے رنگین کپڑے کا رنگ عارضی۔اطیب کے معنی میں دل پسند،جتنا حسن و زیبائش سفید کپڑے میں ہے اتنا دوسرے میں نہیں۔وہ جو وارد ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے سیاہ عمامہ باندھا یا سرخ جوڑا یعنی سرخ دھاری والا جوڑا پہنایا عورت کا کپڑا رنگین ہو وہ سب بیان جواز کے لیے ہے یہ فرمان عالی بیان استحباب کے لیے۔بعض طلباء صوفیاء رنگین کپڑے پہنتے ہیں وہ محض اس لیے کہ جلد جلد دھونا نہ پڑیں ورنہ مسلمان کے لیے سفید کپڑا بہت ہی بہتر ہے۔
۲؎ بعض لوگوں میں مشہور ہے کہ عورت کو رنگین کفن دو غلط ہے ہر مردہ کو سفید کفن دینا بہتر ہے کہ اب اس کی گفتگو اور ملاقات فرشتوں سے ہونے والی ہے تو اچھے کپڑوں میں ہونی چاہیے اچھے کپڑے سفید ہیں۔یہاں مرقات نے سفید رنگت پر بہت اعلیٰ گفتگو کی ہے۔