Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
180 - 975
حدیث نمبر 180
روایت ہے حضرت ام سلمہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں عرض کیا جب کہ حضور نے تہبندکا ذکر کیا ۱؎  یا رسول اللہ تو عورت ۲؎  فرمایا ایک بالشت لٹکائے۳؎  بولیں تب تو اس سے کھل جائے گی۴؎  فرمایا تو ایک گز اس پر زیادہ نہ کرے ۵؎(مالک،ابودا ؤد،نسائی، ابن ماجہ)
شرح
۱؎  یعنی یہ فرمایا کہ مؤمن کے تہبند آدھی پنڈلی تک رہنے چاہئیں تب حضرت ام سلمہ نے یہ سوال پیش کیا۔

۲؎  یعنی مؤمن تو عورت بھی ہے اگر اس کا تہبند آدھی پنڈلی تک رہے تو اس کی نماز کیسے درست ہوگی اور اس کی پنڈلی ستر ہے اس کا کھلا رکھنا اسے ممنوع ہے۔

۳؎  یعنی بمقابلہ مرد کے ایک بالشت اپنا تہبند زیادہ رکھے۔مطلب یہ ہے کہ نصف پنڈلی سے ایک بالشت زیادہ لٹکائے تاکہ ٹخنے بھی ڈھکے رہیں۔

۴؎  یعنی ایک بالشت زیادہ رکھنے میں اگرچہ بیٹھنے کی حالت میں تو اس کا ستر چھپا رہے گا مگر چلنے کی حالت میں اس کے قدم ضرور کھلیں گے یا بے احتیاطی میں پنڈلی بھی کھل جائے گی لہذا ایک بالشت زیادہ ہونے سے بھی ستر حاصل نہ ہوگا۔

۵؎  گز سے شرعی گز مراد ہے یعنی ایک ہاتھ یا دو بالشت جو کہ ڈیڑھ فٹ یا اٹھارہ انچ ہوتے ہیں شریعت میں اسی گز کا اعتبار ہے۔مطلب یہ ہے کہ دو بالشت زیادہ رکھے اس سے زیادہ نہ کرے ورنہ زمین پر گھسیٹے گا اور نجس ہوتا رہے گا۔
Flag Counter