۱؎ آپ کا نام عمرو بن سعید انصاری ہے،کنیت ابوکبشہ،شام میں قیام رہا۔
۲؎ کمام جمع کمۃ کی، کاف کے پیش سے جیسے قبہ کی جمع ہے قباب،کمہ کی اصل ہے کم بمعنی ڈھکنا گھیرنا،اب اصطلاح میں ٹوپی کو کمہ کہا جاتا ہے کہ وہ سر کو گھیرتی اسے ڈھکتی ہے اور بطح جمع ہے ابطح کی بمعنی فراخ اور چوڑی اس لیے زمین مدینہ کو ابطح بھی کہا جاتا ہے کہ وہ وسیع و فراخ ہے۔یہاں بطحا سے مراد ہے چوڑی ٹوپی جو گول ہو اور فراخ کہ سر سے اٹھی نہ رہے بلکہ ساری کھوپڑی پر چمٹی رہے حضرات صحابہ کی ٹوپیاں ایسی ہی ہوتی تھیں۔بعض شارحین نے کمام کو کُمٌّ بمعنی آستین کی جمع فرمایا اور حدیث کے معنی یہ کیے کہ صحابہ کرام کی آستین فراخ و چوڑی ہوتی تھیں مگر پہلے معنی قوی ہیں کیونکہ کم کی جمع اکمام آتی ہے نہ کہ کمام۔مرقات نے فرمایا کہ حضرات صحابہ کی ٹوپیوں کی چوڑائی ایک بالشت ہوتی تھی سارے سر پر چمٹی ہوتی تھیں۔معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ ٹوپیاں بھی اوڑھتے تھے عمامہ لازم بھی تھے بلکہ عمامہ بھی ٹوپیوں پر ہی باندھتے تھے۔