۱؎ حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ حضرت عبداللہ ابن عمر کے بیٹے ہیں اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پوتے آپ اسم بامسمی تھے،دین و تقویٰ صحیح و سالم رکھتے،حق بات کہنے میں بہت جری اور بے باک تھے،حجاج ابن یوسف جیسے ظالم حاکم کی بھی پرواہ نہ کرتے تھے، ۱۰۶ھ ایک سو چھ ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،بڑے پایہ کے تابعی ہیں۔
۲؎ یعنی صرف نیچا تہبند ہی مکروہ و ممنوع نہیں بلکہ عمامہ کا شملہ،کرتے کا دامن بھی اگر ضرورت سے زیادہ نیچا ہو تو وہ بھی ممنوع ہے اور اس پر بھی یہ ہی وعید ہے۔
۳؎ چنانچہ عمامہ کا شملہ نصف پیٹھ تک چاہیے،بعض چوتڑوں تک رکھتے ہیں ممنوع ہے اور قمیض کا دامن بعضے عرب ٹخنوں کے نیچے رکھتے ہیں ممنوع ہے۔