Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
177 - 975
حدیث نمبر 177
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ مؤمن کے تہبند اس کی آدھی پنڈلیوں تک ہوں ۱؎ اس پر پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں گناہ نہیں ۲؎ جو اس سے نیچے ہوگا وہ آگ میں ہوگا۳؎  یہ تین بار فرمایا۴؎  اور اللہ اس کی طرف نظر رحمت نہ کرے گا جو فخریہ طور پر اپنا تہبند نیچا رکھے ۵؎ (گھسیٹے) (ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎  انصاف جمع فرماکر اشارۃً بتایا گیا کہ حقیقی آدھا ضروری نہیں قریبی آدھی پنڈلی تک ہونی چاہیے جیسے کہا جاتا ہے اوائل کتاب یا اواخر کتاب۔اگر حقیقی آدھی پنڈلی مراد ہوتی تو نصف الساق فرمایا جاتا کہ پنڈلی کا نصف ایک ہی ہوتا ہے نہ کہ چند۔(اشعہ)

۲؎  یعنی آدھی پنڈلی تک تہبند ہونا بہتر ہے ٹخنوں تک ہونا جائز،آج کل آدھی پنڈلی تک تہبند،منڈا ہوا سر بہت لمبی داڑھی وہابیوں کی نشانی ہے اس لیے ٹخنہ کے اوپر تہبند رکھے یعنی اس جائز کام پر عمل کرے سر نہ منڈائے، داڑھی صرف ایک مشت رکھے زیادہ بھی نہ رکھے تاکہ ان کی مشابہت سے بچے من تشبہ بقوم فھو منھم۔

۳؎  اسکی شرح ابھی گزری کہ صرف نیچا تہبند ہی دوزخ میں نہ جائے گا بلکہ اپنے پہننے والے کو بھی ساتھ لے جائے گا۔

۴؎  یہ پوری حدیث تین بار فرمائی یا صرف یہ آخری کلمہ ما اسفل الخ تین بار فرمایا۔

۵؎  اس فرمان عالی نے ساری حدیث کو مقید کردیا یعنی فخریہ طور پر یا فیشن یا یہودونصاری کی نقل کے لیے نیچے پائجامے پہننا دوزخ کا ذریعہ ہے۔اس لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ فیشن یا شیخی کے لیے نیچے پائجامہ پہننا مکروہ تحریمی ہے اس کے بغیر مکروہ تنزیہی یا خلاف مستحب۔
Flag Counter